خرید بک لینک
میں ہر محاذ پہ ہر زاویے سے بڑھ کر تھامگر یہ ہجر مرے حوصلے سے بڑھ کر تھا شریکِ سازشِ شب بام و در بھی تھے ورنہہوا کا زور کہاں اِس دِیے سے بڑھ کر تھا سفر میں ہاتھ جھٹکنا ترے لیے نہ سہیمرے لیے تو کسی سان

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

بے گانوں کی اس بستی میں یاروں جیسے ہمصحراؤں کے سینوں پر گلزاروں جیسے ہم روز اک ٹکڑا لے جاتی ہے آندھی اپنے ساتھگرتی پڑتی مٹی کی دیواروں جیسے ہم وحشت کے ماحول میں اپنا انت کسے معلومبے انجام کہانی کے ک

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

کہاں تک آنکھ کو ہم مبتلائے خواب رکھیںحصارِ دشت میں ہوں، کلفتِ سراب رکھیں ہر ایک رُخ سے تم اپنے دکھائی دیتے ہوسو بے رُخی کا مری جان کیا حساب رکھیں یقین ہے کہ پڑھو گے ہمارے لفظ تماماگر کتاب کے آخر میں

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

جب سے انسان نے بولنا سیکھا ہے تب سے الفاظ'>الفاظ کا دامن تھامے ہوئے ہے۔ الفاظ ضمیر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ما فی الضمیر کی دبیز تہوں میں دبے ہوئے مفاہیم کو خوبصورت لبادہ پہنا کر مجسم صورت میں مخاطب کے سامنے لے

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: پنجشنبه 16 آبان 1398 ساعت: 22:51

صفحه بندی